وحی: قرآنِ کریم کی چند آیتیں:

قرآن کریم میں بندوں سے متعلّق بہت ساری آیتیں وحی، رابطے کی کیفیت اور خدائی علامات کے بارے میں موجود ہے۔ یہی "نشانیاں" ہیں۔ آسمانی کتاب کی یہ آیتیں اُن لوگوں سے، جن کے قلوب علم کے نور سے روشن ہیں، بات کرتی ہیں، اور اپنی حقیقت کو ظاہر کرتی ہیں۔(سورۀ "شورٰی"۴۲/ آیت ۵۱/ تا ۵۳/ )میں ارشاد ہوا:

و ما كان لبشر أن يكلمه الله إلا وحيا أو من وراء حجاب أو يرسل رسولا فيوحي بإذنه ما يشاء إنه عليّ حكيم. و كذلك أوحينا إليك روحا من أمرنا ما كنت تدري ما الكتاب و لا الإيمان و لكن جعلنه نورا نهدي به من نشاء من عبادنا و إنك لتهدي إلى صراط مستقيم.

اور کسی بشر کی یہ منزلت نہیں کہ اللہ اُس سے کلام کرے سِواے اس کے کہ وحی کے ذریعے ہو، یا پس ِ پردہ ہو، یا وہ کسی قاصد کو بھیجے۔ وہ اُسی کے حکم سے جو کچھ وہ چاہے، وحی کرے۔ بے شک وہ بلند مرتبہ (اور) حکمت والا ہے۔(٥١) اور اِسی طرح ہم نے تیری طرف ایک روح اپنے حکم سے بھیجی، اور تُو نہیں جانتا تھا کہ کتاب کیا ہے، اور ایمان کیا ہے، لیکن ہم نے اُس روح کو ایک نور قرار دیا، جس کے ذریعے ہم اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں، ہدایت کرتے ہیں، اور بے شک تُو صراطِ مستقیم کی طرف ہدایت کرتا ہے۔(٥۲)اُس اللہ کی راہ کی طرف، جو مالک ہے اُن سب چیزوں کا، جو آسمانوں اور زمین میں ہیں، واضح رہے کہ تمام امور اللہ ہی کی طرف رجوع ہوں گے۔(٥۳)

گزرتے زمانے میں خدا نے اپنے پیغمبروں اور دوسرے اُن تمام افراد کو، جو وحی وصول کرنے کی اہلیت رکھتے تھے، کسی خاص طریقے سے اپنا جلوہ دکھایا ہے۔ قرآن کی مندرجۀ ذیل آیتیں حقیقتِ وحی کی نشاں دہی کرنے والی ہیں اور اِس بات کی دلیل ہیں کہ وحی کی حقیقت کس طرح تمام مخلوقات پر محیط ہے۔

قل إنما أنا بشر مثلكم يوحى إلي أنما إلهكم إله واحد فمن كان يرجوا لقاء ربه فليعمل عملا صالحا و لا يشرك بعبادة ربه أحدا.

"کہہ دو، بے شک میں تمھاری طرح ایک بشر ہوں۔ مجھ پر وحی کی گئی ہے کہ تمھارا معبود، معبودِ واحد ہے۔ پس جو کوئی اپنے رب سے ملاقات کا متمنّی ہے تو لازم ہے کہ وہ عملِ صالح بجا لائے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو بھی شریک نہ کرے۔"(سورۀ "کہف" ۱۸/آیت ۱۱۰/)

إنا أوحينا إليك كما أوحينا إلى نوح و النبيئين من بعده و أوحينا إلى إبراهيم و إسمعيل و إسحق و يعقوب و الأسباط و عيسى و أيوب و يونس و هرون و سليمان و ءاتينا داود زبورا.

"بے شک ہم نے تجھ پر وحی کی، جس طرح ہم نے نوح پر اور اُس کے بعد آنے والے نبیوں پر وحی کی، اور ہم نے ابراہیم پر، اسماعیل پر اور اسحاق و یعقوب پر اُن کی اولاد پر اور عیسٰی، ایّوب، یونس، ہارون اور سلیمان پر وحی کی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا کیا۔"(سورۀ "نساء" ۴/ آیت۱۶۳/)

و أوحي إلى نوح أنه لن يؤمن من قومك إلا من قد آمن فلا تبتئس بما كانوا يفعلون.

"اور نوح پر وحی کی گئی کہ اب تیری قوم میں سے سِواے اُن لوگوں کے، جو ایمان لا چکے ہیں، ہرگز کوئی اَور ایمان نہیں لائے گا۔ پس تو اِس پر رنجیدہ نہ ہو اُس پر جو کچھ وہ کرتے ہیں۔"(سورۀ "ہود" ۱۱/ آیت ۳۶/)

و إذا أوحيت إلى الحوارين أن ءامنوا بي و برسولي قالوا آمنا واشهد بأننا مسلمون.

"اور جب میں نے حواریوں پر وحی کی کہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لائیں تو اُنھوں نے کہا، ہم ایمان لے آئے، اور تو بھی گواہ رہ کہ بے شک ہم مسلمان ہیں۔"(سورۀ "مائدہ" ۵/ آیت۱۱۱/)

إذ يوحي ربك إلى الملائكة أني معكم فثبتوا اللذين آمنوا.

"جب تیرے رب نے ملائکہ کو وحی کی کہ میں تمھارے ساتھ ہوں، پس تم ثابت قدم رکھو اُن لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں۔"(سورۀ "انفال" ۸/ آیت ۱۲/)

و أوحينا إلى أم موسى أن ارضعيه فإذا خفت عليه فألقيه في اليم و لا تخافي و لا تحزني إنا رآدوه إليك و جاعلوه من المرسلين.

"ہم نے موسٰی کی ماں کو وحی کی کہ اُسے دودھ پلائے اور جب اُس کے متعلّق خائف ہونے لگے تو اُسے دریا میں ڈال دے، اور تو نہ تو خوف کرنا اور نہ رنج کرنا۔ ہم اُسے تیرے پاس لوٹا دیں گے اور اُسے رسولوں میں سے بنائیں گے۔"(سورۀ "قصص" ۲۸/ آیت۷/)

يا ايها الذين آمنوا استجيبوا لله و للرسول اذا دعاكم لما يحييكم و اعلموا ان الله يحول بين المرء و قلبه و انه اليه تحشرون

"اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ اور اُس کے رسول کا حکم بجا لاؤ وہ تمھیں اُس چیز کی طرف دعوت دیتا ہے جو حیات بخش ہے، اور یاد رکھو، اللہ انسان اور اُس کے دل کے درمیان حائل ہوجاتا ہے۔ بے شک تم اُس کی طرف محشور کیے جاؤگے۔"(سورۀ "انفال" ۸/ آیت ۲۴/)

وحی کی حقیقت کا علم دوسرے متعدّد شعبوں کی مانند تاریکی اور ابہام میں رہ گیا ہے، اور عام طور پر انسانی دست رس سے خارج ایک مظہر تصوّر کر لیا گیا ہے۔ جب کہ انسانی جسم کی ساخت ذاتی طور پر پہلے ہی سے وحی کے حصول کے لیے بنائی گئی ہے، لیکن وحی کی دریافت، حاصل کرنے والے کی طرف سے آمادگی اور ہم آہنگی سے مشروط ہے۔1

_____________________________

Source: Nader ANGHA, Hazrat Salaheddin Ali, Sufism The Reality of Religion, M.T.O. Shahmaghsoudi Publication, Washington D.C., USA, 2002, pp.48-57

قرآن