وحی وصول کرنے کی اہلیت:

مکتبِ طریقتِ اویسئ شاہ مقصودی کی تعلیمات کے مطابق انسانی جسم میں موجود ایک میکانیزم یہ اہلیت رکھتا ہے کہ اُس کے عروج کو وجود کے بالاترین درجوں تک مہیّا کرے۔ تمام پیغمبر، اولیا اور عُرفا ایسے ہی عروج کا اعلٰی نمونہ ہیں۔

انسانی جسم میں ۱۳/ برقناطیسی مراکز ہیں۔ یہ مراکز صحت و سلامتی، اور اِسی طرح روحانی عروج مہیّا کرتے ہیں۔ اِن ۱۳/ برقناطیسی مراکز میں سے ہر ایک اپنی خاص کارکردگی کا حامل ہے، جو خاص طور پر برقناطیسی منابع اور دنیا کی توانائی سے مربوط ہیں۔1

اِن مراکز میں سے اہم ترین مرکز قلب میں واقع ہے۔ حضرت مولانا شاہ مقصود صادق عنقا، جو طریقتِ اویسی کے اکتالیسویں پیر ہیں، اِسے "عقدۀ حیاتی قلب" یعنی قلب میں موجود سرچشمۂ حیات کہتے ہیں جسے دوسرے الفاظ میں "مَیں" کا نام دیتے ہیں۔ سرچشمۂ حیات کی جگہ قلب میں ہے اور یہ وہی دروازہ ہے جس سے انسان عالمِ روحانی اور ملکوتِ خداوند میں داخل ہوسکتا ہے۔2

فمن يرد الله ان يهديه يشرح صدره للاسلام‏

"اور جسے اللہ ہدایت دینے کا ارادہ کرتا ہے، تو اُس کے سینے کو اسلام کے لیے کشادہ کر دیتا ہے۔ ("سورۀ "انعام"۶/ آیت ۱۲۵ )

ا فمن شرح الله صدره للاسلام فهو على نور من ربه فويل للقاسية قلوبهم من ذكر الله اولئك في ضلال مبين

"بھلا جس شخص کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا ہے، پس وہ اپنے رب کی طرف سے نور پر ہے۔ پس بدبختی ہے اُن سنگ دلوں کے لیے جو ذکرِ خدا سے متاثر نہیں ہوتے۔ وہی تو ہیں جو واضح گم راہی میں پڑے ہوئے ہیں۔"(سورۀ "زُمَر" ۳۹/ آیت ۲۲ )

ان في ذلك لذكرى لمن كان له قلب او القى السمع وهو شهيد

" جو شخص دل رکھتا ہے، یا دل سے متوجّہ ہو کر سُنتا ہے، اُس کے لیے اِس میں نصیحت ہے۔("سورۀ "ق" ۵۰/ آیت ۳۷ )

_____________________________

1. Nader ANGHA, Theory "I", M.T.O. Publication, Riverside, CA, USA, 2002, p.138
2. Nader ANGHA, Hazrat Salaheddin Ali, Sufism The Reality of Religion, M.T.O. Shahmaghsoudi Publication, Washington D.C., USA, 2002, pp.52-53

قرآن