وحی کی حقیقت

اسلام کی بنیاد تسلیم (سپردگی) پر رکھی گئی ہے، لیکن اسلام کے نزدیک وہی سپردگی قابلِ قبول ہے جو علم و یقین کی بنیاد پر ہو۔ وجود کے تمام مظاہر سپردگی کے قانون کی پیروی کرتے ہیں، اور اپنی مرکزیت میں پوشیدہ علمِ ذاتی کے پیرو ہوتے ہیں۔ ایسی سپردگی اور ثابت قدمی انسانی وجود کے گہرائی، یعنی اُس کے قلب میں اندرونی تبدیلی کے اسباب فراہم کرتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں حواس، افکار وغیرہ کی کُل حدود ٹوٹ جاتی ہیں، اورانسان شہود اور یقین کی بِنا پر وجود کی یکتائی کو تسلیم کرتا ہے، اور اپنے وجود کی حقیقت پہچان لیتا ہے۔1

اسلام کے نزدیک قابلِ قبول سپردگی کسی اَنجان خدا کے لیے نہیں۔ کیسے ممکن ہے کہ کسی موہوم خدا پر ایمان لا کر اپنے آپ کو اُس کے سپرد کر دیا جائے۔ اندھا اعتقاد نتیجہ ہے لوگوں کے تصوّرات میں بنے کسی اَنجان خدا کے سامنے سرِتسلیم خم کرنے کا۔ یقیناً یہ ایمان اُس خدا پر نہیں، جس کے ساتھ انبیا رابطے میں تھے، اور اُس کے بارے میں بتاتے تھے۔ سورۀ بقرہ کی آیت ۲/ اور ۳/ میں خدا کا ارشاد ہے: "یہ کتاب، اِس میں کچھ شک نہیں، یہ پرہیزکاروں کی رہنما ہے، جو غیب پر ایمان لاتے ہیں۔" مذکورہ آیت میں "غیب" کا لفظ عام لوگوں کے ذہنوں میں اِس طرح تعبیر ہوا ہے گویا انسان خدا کی معرفت کی صلاحیت اور قابلیت نہیں رکھتا۔ جس کے نتیجے میں اُسے چاہیے کہ "غیب" اور اَن دیکھے پر ایمان لائے، اور اندھوں کی طرح اُسے قبول کرے۔ جب کہ ایمان یقین اور علم و شہود کے نتیجے کی بنیاد پر ہونا چاہیے تھا۔2

موحّدوں کے مولا علی علیہ السّلام فرماتے ہیں: "ایمان دل میں ایک نورانی نقطے کی مانند پیدا ہوتا ہے، جس قدر ایمان بڑھتا چلا جائے گا، اُسی قدر یہ نقطہ بھی بڑھتا چلا جائے گا۔"

خداوند نے قرآنِ ِکریم میں ارشاد فرمایا ہے:

يوم ترى المؤمنين و المؤمنات يسعى نورهم بين أيديهم...

"جس دن تم مومن مردوں اور مومن عورتوں کو دیکھو گے کہ اُن کا نور اُن کے آگے آگے اور داہنی طرف دوڑ رہا ہے۔۔۔ (سورۀ "حدید" ۵۷/ آیت ۱۲/)

اِسی طرح کہا گیا ہے کہ ذعلب یمانی نے ایک دفعہ امیرالمؤمنین سے پوچھا کہ "کیا آپ نے اپنے پروردگار کو دیکھا ہے؟" تو آپ نے فرمایا: "کیا میں ایسے خدا کی عبادت کرتا ہوں جسے میں نے دیکھا نہ ہو۔" اُس نے کہا: "آپ نے خدا کو کیسے دیکھا؟" آپ نے فرمایا: "اُسے سر کی آنکھ سے نہیں دیکھا جا سکتا، لیکن دل اُسے ایمان کے حقائق کے ساتھ پا لیتا ہے۔" لیکن رُویت سے مراد آنکھ کا دیکھنا ہے۔ لیکن بعض اوقات اندرونی صلاحیتوں اور قلب کی نظر پر بھی اِس کا اطلاق ہوتا ہے، لیکن بصیرت مشاہدۀ قلب ہے، جو اپنے تین درجوں، یعنی عقلِ مرتفع (بلندعقل)، عقلِ مستوی (متوسّط عقل) اور عقلِ منخفض (پست عقل) پر مشتمل ہے۔3

ہستی ہے، اور بسیط اور لامتناہی ہے، اور انسان بھی اِسی ہستی کے متن میں ہے، اور اُس کی صلاحیتیں اور استعداد بھی مطلق اور لامحدود ہیں۔ اِس بنا پر معرفت کے حصول اور مطلق "بصارت" اور "سماعت" کے مرتبے کے انکشاف کے لیے انسان کو چاہیے کہ اپنے وجود کے پست ترین مرتبے، یعنی مرتبۀ ثقیل و مادّی سے اعلٰی ترین لطیف اور روحانی مرتبے تک، جو "انسانیت" کا حقیقی مقام ہے، معراج پا لے، دوسرے الفاظ میں ضروری ہم آہنگی حاصل کرے۔ ایک ایسا مقام جو تجلّئ الٰہی کو منعکس کرنے کے قابل آئینہ ہے۔4

اِسی طرح خداوند نے حدیثِ قدسی میں فرمایا: "میں زمین و آسمان میں نہیں سماتا، بلکہ میری سمائی میرے مومن بندے کے قلب میں ہے۔"

اسلام ایک ایسا دین ہے جس کی بنیاد علم و دانش پر ہے۔ گزرتے زمانے میں یہ ازلی علم پیغمبروں، اولیا اور عرفا پر نازل ہوتا رہا ہے۔

ہر انسان توازن، ہم آہنگی اور ہم موجی کے ذریعے وحی کی حقیقت کا انکشاف کرنے اور اصل "بصارت" اور "سماعت" کے مرتبے کے دریافت کی قدرت رکھتا ہے۔ ایسے انکشاف کا لازمہ معلّم کا وجود ہے۔ عرفان میں معلّم کو 'عارف' کہا جاتا ہے۔ عارف دراصل ہدایت کرنے والا اور ایک صابر رہنما ہے جو سالک کو روحانی معراج مہیّا کرتا ہے۔ معلّم کو اِسی وجہ سے "راستے کی روشنی" بھی کہا گیا ہے ، کیوں کہ وہ اندھیروں کو ختم کرکے روشنی دینے والا ہے تاکہ حقیقی سالک اُس کے نور کی برکت سے اپنے راستے کو کھلا ہوا پائے اور اپنی حقیقت پہچان لے۔۵

آٹھویں صدی ہجری کے عارف شیخ صفی الدّین اَردبیلی فرماتے ہیں: "یہ جاننا چاہیے کہ مردانِ حق کی صحبت کے بغیر سالک کے دل سے پردے نہیں ہٹ سکتے۔ جو طالبِ علم اپنے وہم و خیال کے مطابق راستہ طے کرتا ہے، اپنے سراب میں گم ہو جاتا ہے۔ جسم کی غذا عناصر اور ایتھر سے ہے، لیکن روح کی غذا روشن ضمیر اہل دل کی صحبت میں رہنا اور ان کی خدمت کرنا ہے۔6

_____________________________

1. Nader ANGHA, Theory "I", M.T.O. Publication, Riverside, CA, USA, 2002, p. 166
2. Nader ANGHA, Hazrat Salaheddin Ali, Sufism The Reality of Religion, M.T.O. Shahmaghsoudi Publication, Washington D.C., USA, 2002, p.51
3. Sadegh ANGHA, Hazrat Shah Maghsoud, Al-Rasa'el, University Press of America, Lanham, 1986, pp. 38-39
4. Nader ANGHA, Hazrat Salaheddin Ali, Sufism The Reality of Religion, M.T.O. Shahmaghsoudi Publication, Washington D.C., USA, 2002, p.48
5. Theory "I", p. 145
6. Al-Rasa'el, p.91

قرآن