|
حضورِ اکرم(ص) نے فرمایا:
"جو شخص میری چالیس حدیثیں لکھے اور اپنے پروردگار سے بخشش کی امید رکھے تو وہ بخشا جائے گا اور اُسے شہدا کا ثواب عطا کیا جائے گا۔"
نیز آپ نے فرمایا:
"اگر میری امّت میں سے کوئی شخص چالیس حدیثیں یاد کرے گا تو قیامت کے دن علما (یا ایک روایت کے مطابق فقہا) کےزمرے میں محشور ہوگا اور یا یہ فرمایا: میں اُس کے لیے شفیع اور گواہ ہوں۔"1
حضورِ اکرم(ص) کا یہ فرمان اِس بات کا باعث ہوا کہ بہت سارے عرفا، فقہا اور محدّثین میں سے ہر ایک اپنے ادراک کے مطابق حضورِ اکرم(ص) کی تعلیمات اور سیرت پر مبنی چالیس حدیثیں جمع کرنے کی طرف متوجّہ ہوا اور تدوین شدہ احادیث کی کتابوں کی فہرست میں "اربعینِ حدیث" کے نام سے متعدّد کتابیں ملتی ہیں، مثلًا اربعینِ شیخ بہائی، یا اربعینِ حدیث از شیخ صدرالدّین قونوی، یا اربعینِ حدیث از جامی وغیرہ۔
حضرت مولانا المعظّم جلال الدّین علی میر ابوالفضل عنقا پیرِ اویسی نے بھی فقر کے بارے میں حضورِ اکرم(ص) کی چالیس حدیثیں "انوارِ قلوبِ سالکین" کے عنوان کے تحت جمع کی ہیں، اور ہر حدیث سے متعلّق ایک منظوم شرح کا افاضہ فرمایا ہے، جو اپنی جگہ عرفانِ اسلامی پر ایک جامع اور بے مثل کتاب ہےجو شریعت، طریقت اور حقیقت کے امور کے احاطے پر آپ کی جامعیت کی کامل دلیل ہے۔
حضرت علی (ع) سے منسوب "چہل حدیثِ قدسی" بھی اربعیناتِ حدیث میں مشہور ہے، اِس فرق کے ساتھ کہ یہ احادیث خداوندِعظیم و رحمان کی طرف سے نقل کی گئی ہیں۔ اِن احادیثِ شریفہ کے بارے میں صاحبِ الذریعہ لکھتے ہیں: "الاحادیث القدسیہ تورات سے ایک انتخاب، جو چالیس سورتوں پر مشمل ہے، جنھیں حضرت امیرالمومنین نے عبرانی زبان سے عربی میں ترجمہ فرمایا، اور عبداللہ ابنِ عبّاس نے اِنھیں حضرت مولٰی (ع) سے روایت کیا ہے۔
یہ احادیث کئی بار فارسی میں ترجمہ ہوئی ہیں، اور 'صحفِ چہل گانہ' کے نام سے، اور بعض نسخوں میں 'چہل سورہ' کے نام سے موجود ہیں۔"2
_____________________________
1. Montakhab Kanz-ol-Amal, vol.4, p.161. Avali-ol-Leali, vol.1, p.95. vol.4, p.79. Ehya-ol-Uloum, vol.1, p.29
2. Al-Zaria’h ela Tasaneef-ol-Shi’a, vol 1. p.278.
|