اسلام
اصولِ اسلام
مسلمان کون ہیں؟
نماز (پہلا حصّہ)
نماز کے ظاہری ارکان اور باطنی حقیقت
عبادت میں معنوی ارکان
     ذکر: یادِ خدا
     حضورِ قلب
     نماز کے معنوی ارکان

اصلِ معاد

"پھر یقیناً تم قیامت کے دن اٹھا کھڑے کیےجاؤگے۔ "
قرآنِ مجید (سورۂ۲۳ /مومنون، آیت ۱۶)

"اسلام میں، انسان کے وجودی حقیقت کے کشف کے لیے حقیقی طلب اور اس کے لیے کھڑے کو 'قیام' کہا گیا ہے۔ 'قیام' کے معنی اٹھ کھڑا ہونا، یعنی کسی سمت میلان اور انحراف کے بغیر ایک محکم مرکزیت کی بنیاد پر کھڑا ہونا ہے۔ مثال کے طور پر نماز میں پہلا قدم خداوندِعالم کی یکتائی کے گواہ کی حیثیت سے اُس کی گواہی کی نیّت کے ساتھ قیام کرنا ہے۔"1

"کیا نہیں غور و فکر کیا انھوں نے کبھی اپنے آپ میں، کہ نہیں پیدا کیا اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ اُن کے درمیان ہے مگر بر حق اور ایک وقتِ مقرر کے لیے اور یہ ہے کے اکثر انسان اپنے رب کے حضور پیشی کے منکر ہیں۔ "
قرآنِ کریم(سورہ۳۰ٔ /روم، آیت۸)

امیرالمومنین علی(ع) امام المتّقین مولاے کائنات نے ارشاد فرمایا ہے: "مجھے تعجّب ہے اُن لوگوں پر، جو اپنے نفس کو پہچانے بغیر خدا کی معرفت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔"

اکثر لوگوں کا گمان یہ ہے کہ وہ خدا کی معرفت رکھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ خداوندِعالم نے ہمیں پیدا کرکے اپنے آپ پر آزاد چھوڑ دیا ہے اور قیامت کے دن دوبارہ ظاہر ہو کر ہماری تقدیر لکھ کر جنّت یا جہنّم بھیج دیں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر آدمی اپنی بہشت یا اپنا جہنّم اِسی خاکی حیات میں نشو و نما کے دوران بنالیتا ہے اور بعد میں موت کے وقت بھی وہ اسی رشد و نمو میں سفر کرے گا۔ لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ مرنے کے بعد کسی اور جگہ چلے جائیں گے۔

حضور اکرم حضرت محمّد(ص) نے فرمایا:

"کما تعیشون تموتون و کما تموتون تحشرون"
"جیسے تم زندگی گزاروگے، اُسی طرح مروگے اور جیسے تم مروگے اور ویسے ہی محشور کیے جاؤگے۔"

اگر کسی شخص نے اپنی زمینی زندگی کے دوران پریشان اور تکلیف دہ زندگی گزاری ہو تو موت کے بعد بھی اُسی برزخِ روحی میں سفر کرے گا اور یہ ایک ایسا جہنّم ہے جسے اُس نے خود اپنے لیے بنایا ہے اور اُسی میں ابد تک محشور ہو گا۔ بے چینی، غصّہ وغضب، حرص وطمع، حسد اور بخل، جن کے ساتھ انسان دست بہ گریبان ہے، در اصل یہی اُس کا جہنّم ہے اور یہ موت کے بعد بھی جاری رہے گا۔

تمام پیغمبروں کی تعلیمات کا جوہر خصوصاً پیغمبر اکرم حضرت محمّد(ص) کی تعلیمات اسی اصل کو بیان کرتی ہیں کہ:

"موتوا قبل ان تموتوا"
"مرجاؤ قبل اِس کے کہ مارے جاؤ۔"

یہ تعلیم ان معنوں میں ہے کہ اپنے سرکش فطری نفس اور محدود وجود سےمرکے رہائی پاکر واقعیت پر چڑھائے گئے خول اور حجاب کو تار تار کریں تاکہ دونوں عالم میں آرام اوراطمینان سے رہ سکیں۔

جس وقت انسان اپنی محکم وجودی مرکزیت میں قیام کرتا ہے تو مجازی حدود اور ابعاد ٹوٹ جاتے ہیں اور انسان رہائی اور ابدی سکون کا تجربہ کرتا ہے، پانی کے اُس قطرے کی مانند، جو بلبلہ ٹوٹنے کے بعد سمندر میں شامل ہو کر سمندر کی عظمت اور وسعت کا تجربہ کرتا ہے۔عرفان میں سلوک کے اِس مرتبے کو 'فنا فی اللہ' اور 'بقاء بااللہ' کا نام دیا گیا ہے جو اصلِ معاد اور قیامت کی حقیقت کو بیان کرنے والا ہے۔1

_____________________________
حوالہ جات:

1- Molana Salaheddin Ali Nader Angha, Sufism, The Reality of Religion (Riverside, CA: M.T.O. Publications, 2002)



واپس | اپنا صفحہ | اوپر | ویب کاسٹ | رابطہ


مکتبِ طریقتِ اویسیٔ شاہ مقصودی ®

مکتبِ عرفانِ اسلامی ®


ایم ٹی او ویب سائٹ

مکتبِ طریقتِ اویسیٔ شاہ مقصودی
مکتبِ طریقتِ اویسیٔ شاہ مقصودی، مکتبِ عرفانِ اسلامی ایک غیر منفعت بخش مذہبی اور تعلیمی ادارہ ہے جس کے اہداف میں واقعیّتِ دین کی تحقیق، اسلام کی اعلا تعلیمات پر مبنی حقائق کی اشاعت اور حقیقت کے متلاشیوں اور طالبِ علموں کی تعلیم اور انھیں ہدایت فراہم کرنا شامل ہیں۔
خانقاہیں

قرآن

۔قرآن ویب سائٹ

تمرکز (مراقبہ)

۔تمرکز ویب سائٹ

سرگرمیاں

. MTO Sufi Associations
. MTO Sufi Society
. MTO College
. MTO Holistic Health Center
. MTO Sufi Psychology

مطبوعات

. MTO Publications
. MTO Printing



اپنی زبان منتخب کیجیے
جرمن
انگریزی
عربی
چینی
ڈینش
ہسپانوی
فرانسیسی
عبرانی
ہندی
ہنگرین
اطالوی
نارویجین
اردو
پشتو
فارسی
پرتگالی
روسی
سویڈش
تُرکی