|
"میں" کی تھیوری اور اُس کے بنیادی اصول رہبری کی صلاحیت پیدا کرنے کے لیے "میں" کا نظریہ ایک لامحدود اور انقلابی بصیرت کی حامل ہے۔ یہ کسی ذات کی یکسر تبدیلی کے ذریعے کامیابی اور خوشحالی کی راہ استوار کردیتی ہے۔ پروفیسرنادرعنقا فرماتے ہیں کہ اگر ہم کسی بھی جگہ ایک مثبت اور ہمہ گیر تبدیلی لانا چاہیں، خواہ یہ فرد کی سطح پر ہو، اداروں کی سطح پر یا آخرکار معاشرے کی سطح پر، تو اس کا آغاز یقینًا فرد کی ذات ہی سے ہوگا۔ فرد میں پیدا ہونے والا تغیّر باطنی انقلاب کی مانند ہوتا ہے، کیوںکہ یہ ایک ایسی تبدیلی کا مظہر ہوتا ہے جس کا آغاز کسی فرد کی فطرت اور ذات سے ہوتا ہے۔ "میں" کے نظریے کے بنیادی اصول "میں" کی دریافت کے نتیجے میں اُس کے بنیادی اصول مرتّب ہو جاتے ہیں۔ یہ لامتناہی اور آفاقی اصول ہر قسم کی تبدیلی سے ماورا ہوتے ہیں۔ یہ آفاقی اصول ذرّے سے لے کر کہکشاؤں تک، یہاں تک کہ خود انسانی وجود کی ساری بے کرانی کو بھی اپنے دامن میں سمیٹ لیتے ہیں۔ اپنے وجود میں "میں" کی اس مرکزیت کے ساتھ ہم ان آفاقی اصولوں سے کچھ اس طرح مربوط ہوجاتے ہیں کہ یہ ہماری ہستی کے تمام اطراف و ابعاد میں منعکس ہونے لگتے ہیں۔ "میں" کی تھیوری اور اُس کے سات بنیادی اصول، جو حقیقت میں خودشناسی کے اصول ہیں، مندرجۂ ذیل ہیں: 1 • اصلِ مرکزیتِ عالِم و حاکم
انسان اصولی طور پر ہر قسم کے معاشرتی ادارے اور آخرِکار معاشرے کا سنگِ بنیاد ہے۔ چناں چہ ہر شخص وجودی اعتدال اور توازن کا حامل ہو اور اپنی ذاتی صلاحیت کو استعمال میں لے آئے تو مختلف سطحوں اور معاشرتی مراتب کے تمام اداروں اور انسانی معاشروں میں بنیادی تبدیلی اور تغیّرات فراہم کرتا ہے۔ کسی ادارے میں "میں" کی تھیوری کا بنیادی اصول مندرجۂ ذیل صورتوں میں جلوہ گر ہوتا ہے۔
مندرجۂ بالا بنیادی اصول اُس وقت متحقّق ہوتے ہیں جب آخری اصل "عشق و جذبے" سے کام لیا جائے۔
1.Molana Salaheddin Ali Nader Angha, Theory "I" (M.T.O. Publication,. Riverside CA, 2002) pp.159-161 2. Ibid, p.118 |