|
نقاشی اور مصوّری کے علم میں رومیوں اور چینیوں کے مقابلے کی
حکایت:از مثنویٔ
مثنوی مولانا جلال الدّین محمد رومی، دفترِ اوّل
چینیوں نے کہا کہ ہم بڑے نقاش ہیں
رومیوں نے کہا کہ ہم شان و شوکت والے ہیں
بادشاہ نے کہا، میں اِس معاملے میں امتحان لوں گ
کہ دعوے میں تم میں سے کون بہتر ہے
چینی اور رومی جب آئے
(تو) رومی بہ اعتبارِ علم زیادہ ماہر تھے
چینیوں نے کہا، ہم محنت کریں گے
رومیوں نے کہا، ہم حکمت و دانائی دکھائیں گے
چینیوں نے کہا، ایک گھر
خاص طور پر ہمارے سپرد کرو، اور ایک تم لے لو
آمنے سامنے کے دو گھر بالمقابل تھے*
اُن میں سے ایک رومیوں نے، دوسرا چینیوں نے لے لیا
چینیوں نے بادشاہ سے سو قِسم کے رنگ مانگے
اُس اقبال مند (بادشاہ) نے خزانہ کھول دیا
ہر صبح کو خزانے سے رنگوں کے لیے
چینیوں کو مقرّر رقم بلکہ اور کچھ زیادہ مل جاتا
رومیوں نے کہا، نہ نقش اور نہ رنگ
کام میں آئے گا، سواے زنگ صاف کرنے کے
اُن (رومیوں) نے دروازہ بند کیا اور مانجھنے لگے
(در و دیوار) آسمان کی طرح سادہ اور صاف ہوگئے
رنگارنگی (عالمِ کثرت) سے (بے رنگی) عالمِ وحدت کی طرف راستہ ہے
رنگ ابر کی طرح اور بے رنگی چاند کی طرح ہے
تو ابر میں جو کچھ روشنی اور چمک دیکھتا ہے
وہ ستاروں اور چاند اور سورج کی وجہ سے سمجھ
جب چینی کام سے فارغ ہوئے
اُنھوں نے خوشی میں ڈھول بجائے
بادشاہ آیا، اُس نے اُس جگہ نقش دیکھے
جو عقل اور سمجھ کو دنگ کر رہے تھے
اُس کے بعد (بادشاہ) رومیوں کی طرف آی
اُنھوں نے درمیان سے پردے کو اوپر کھینچ دیا
(تو) اُن تصویروں اور دست کاریوں کا عکس
اُن صاف دیواروں پر پڑا
(بادشاہ نے) جو وہاں دیکھا، یہاں اُس سے اچھا دیکھا
(اور یہ منظر) آنکھوں کو حلقہً چشم سے اچک رہا تھا
اے بابا! رومی وہ صوفی ہیں
بغیر تکرار اور کتاب اور ہنر (آموزی) کے
لیکن اُنھوں نے سینوں کو مانجھ لیا ہے
لالچ اور حرص اور بخل اور کینوں سے پاک (کرلیا ہے)
آئینے کی صفائی اُن کے دل کی صفت ہے
(جو) لا انتہا صورتوں کو قبول کرنے والا ہے
صورت، بغیر صورت جو بے حد اور بے عیب تھی
جو گریبان میں سے دل کے آئینے سے حضرت موسٰی پر چمکی تھی
اگرچہ وہ صورت آسمان میں نہیں سماتی ہے
نہ عرش میں اور نہ زمین اور نہ دریا میں اور نہ مچھلی میں
اِس لیے کہ یہ چیزیں محدود اور شمار میں آنے والی ہیں
سمجھ لے، دل کے آئینہ کی کوئی حد نہیں ہے
عقل اِس جگہ خاموش رہتی ہے، یا گم راہ کرتی ہے
اِس لیے کہ دل اُس سے ملا ہوا ہے، یا خود وہی دل ہے
قیامت تک کے ہر نقش کا عکس نہیں چمکتا ہے
دل کے علاوہ (کسی اَور چیز پر) خواہ وہ شمار مین آنے والے ہوں، یا اّن گنت ہوں
قیامت تک کا ہر نیا نقش جو اِس دل پر پڑتا ہے
کسی حجاب کے بغیر اُس میں نظر آتا ہے
صیقل کرنے والے بُو اور رنگ سے نجات پا گئے ہیں
وہ اچھائی کو بلا توقف ہر وقت دیکھ لیتے ہیں
اُنھوں نے نقش اور علم کے چھلکے کو چھوڑ دیا ہے
عین الیقین کا جھنڈا بلند کردیا ہے
اُن کو ذوق اور فکر اور روشنی حاصل ہوگئی ہے
اُنھوں نے پیراکی کے لیے سمندر پا لیا ہے
موت، جس سے سب خوف زدہ ہیں
یہ قوم اس کی ہنسی اڑاتی ہے
(کیوں کہ) اُن کے دل پر کوئی قابو نہیں پاسکتا ہے
ضرر سیپ کو پہنچتا ہے، نہ کہ موتی کو
اگرچہ اُنھوں نے نحو اور فقہ کو ترک کردیا ہے
لیکن وہ فنا اور فقر کے حامل ہو گئے ہیں
جب سے آٹھوں بہشتوں کے نقوش ابھرے ہیں
اُن کی لوحِ دل کو (عکس کی) قبول کرنے والی پایا ہے
وہ عرش اور کرسی اور خلا سے بھی بہتر ہیں
(وہ) خدا کی سچائی کی نشست گاہ کے ساکن ہیں
وہ سیکڑوں نشان رکھتے ہیں اور مطلق فنا ہیں
نشان کیا، بل کہ وہ اللہ کا بعینہ دیدار ہیں
|