|
رِجا( اُمید) "امّیدیں، زرخیز زمیں کا بیج ہیں اور پھل لاتی ہیں" حضرت مولانا شاہ مقصود صادق عنقا "کتاب الرّسائل" میں فرماتے ہیں: [1] "رجا،حق کے لطف و کرم کی معرفت رکھتے ہوئے اُس پر یقین رکھنا اور اُس کے فضل و احسان اور رحمت کی وسعت ہے اور دلی طور پر خداوندِعالم کی عنایات و عطیات کی اُمید رکھنا ہے۔" شیخ روزبہان بقلی فرماتے ہیں: "خوف خداوند کے عدل اور رِجا اُس کے فضل سے ہے۔" شیخ نجم الدّین کبریٰ نے فرمایا ہے: "رِجا غم و اندوہ کی شفاعت کرنے والی ہے اور خوف عمل کا رقیب ہے۔" حضرت امیرالمومنین علیہ السّلام نے فرمایا ہے: "رِجا پروردگار کے لطف و کرم سے دل کی نزدیکی اور حُسنِ وعدہ سے دل کا سُرور ہے۔" حضرت صلاح الدّین علی نادر عنقا پیرِ اویسی، کتاب "رازنامہ" میں اُمید کی یوں توصیف فرماتے ہیں:: [امّیدیں، زرخیز زمیں کا بیج ہیں اور پھل لاتی ہیں پودا ناامّیدی کا، اُگتا ہی نہیں ہے دل میں کبھی عشق کی آگ سے جل اٹھتی ہیں خاموشوں کی فریادیں آرزوئیں رب سن لیتا ہے، ہر اک سچّے دل کی سبھی اے دل کے کعبے کے مالک، اے اہلِ عرفاں کے رب دل کی تضرّع کی خاطر، اور ہمّتِ مرداں کی خاطر عشق کی سرمستی کے صدقے، حُسنِ جواناں کی خاطر پاک و مقدّس چہروں کی اور شاہدِ عرفاں کی خاطر حُسنِ لالہ کاراں*، یعنی تازگیٔ جاں کی خاط میری جاں کو اپنے عشق کے شعلۂ شوق سے بھڑکا دے][2] 1- Molana Shah Maghsoud Sadegh Angha, Al-Rasa’el- Al Salat ( M.T.O. Shahmaghsoudi Publication, Tehran, Iran,1975) p. 34 2- Molana Salaheddin Ali Nader Angha, The Secret word ( University Press of America, New York, 1984) pp.21-22 * لالہ کار : وہ برگزیدہ جو حقیقت کی طرف سالک کی رہنمائی کرتا ہے۔۔ |